باپ مارے کا بیر
معنی
١ - پرانا بیر، موروثی عداوت؛ جانی دشمنی، قلبی عداوت۔ "ایسا کیا باپ مارے کا بیر بیٹی سے پڑ گیا کہ صورت ہی دیکھنے کی روادار نہیں۔" ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، راشدالخیری، ٦٥ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ، اسم 'باپ' کے بعد مصدر مارنا سے مشتق اسم صفت 'مارے' کے بعد کلمہ اضافت 'کا' کے بعد سنسکرت ہی سے ماخوذ اسم 'بیر' لگانے سے مرکب اضافی 'باپ مارے کا بیر' بنا۔ اردو میں "انشائے ہادی النسا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پرانا بیر، موروثی عداوت؛ جانی دشمنی، قلبی عداوت۔ "ایسا کیا باپ مارے کا بیر بیٹی سے پڑ گیا کہ صورت ہی دیکھنے کی روادار نہیں۔" ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، راشدالخیری، ٦٥ )